بنگلورو،4؍اکتوبر(ایس او نیوز) کرناٹک میں کورونا کی وبا پر قابو پانے کیلئے ریاستی حکومت نے مزید سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عوامی مقامات میں سماجی فاصلے برقرار نہ رکھنے والوں اور ماسک نہ پہننے والوں کی اب خیر نہیں۔ جی ہاں، ریاستی حکومت نے ماسک نہ پہننے والوں پر عائد کئے جارہے جرمانے کی رقم میں 5 گنا اضافہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ بنگلورو میں وزیر طبی تعلیم ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ موجودہ وقت میں ماسک نہ پہننے والوں پر شہری علاقوں میں 200 روپئے اور دیہی علاقوں میں 100 روپئے کا جرمانہ عائد کیا جارہا ہے۔ اب جرمانہ کی رقم بڑھا دی گئی ہے۔ ماسک نہ پہننے پر شہری علاقوں میں ایک ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ دیہی علاقوں میں 500 روپئے کا جرمانہ عائد ہوگا۔
ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ کورونا کی وبا ختم ہوچکی ہے۔ لیکن یہ وبا اب بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے گزارش کی ہے کہ ریاست میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے، لوگ حکومت کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے آپ احتیاط برتیں۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں، شاپنگ مالس اور دیگر عوامی مقامات پر سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے والوں پر بھی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ سماجی فاصلہ کی جانب توجہ نہ دینے والے دوکانداروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ عوامی مقامات پر پانچ افراد مل جل کر نہ ٹھہریں اس پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس طرح کوروبا کی وبا کو روکنے کیلئے موجود تمام احتیاطی تدابیر اور اقدامات کو مزید سختی کے ساتھ یکم اکتوبر سے نافذ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ وزیر طبی تعلیم ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ کووڈ- 19 کے ٹسٹ میں تین گنا اضافہ کرنے کا بھی ریاستی حکومت نے فیصلہ لیا ہے۔ ہر دن ایک لاکھ سے زائد کووڈ ٹسٹ کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ریاست کے محکمہ تعلیمات عامہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ 15 اکتوبر سے قبل اسکول اور کالج نہیں کھلیں گے۔ ریاست میں 21 ستمبر 2020 سے نویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ کیلئے اپنے اپنے اسکولوں اور کالجوں کو جاکر اساتذہ سے بات چیت کرنے، نصاب اور پڑھائی کے سلسلے میں شک و شبہات کو دور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا، لیکن اب 15 اکتوبر تک اس کی بھی گنجائش نہیں ہوگی۔ریاست میں تمام تعلیمی ادارے 15 اکتوبر تک مکمل طور پر بند رہیں گے۔ کرناٹک میں ایک جانب کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہیں اس مرض سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔